سرِ بازارِ جاں اعلان کر دو

یہ کیسا دور آیا ہے جہاں میں

کہ قاتل قاضی و منصف بنے ہیں

یہ کیسی آگ ہے جس کی لپٹ میں

مساجد اور مدارس جل رہے ہیں

یہ کیسا علم دیں ہے جسکے حامل

وفا و پیار کی رسمیں بھلا کر

رہِ اخلاص کے سب در جلا کر

بھلا کر ٓآشتی کی سب حدیثیں

چھپا کر حب و الفت کے اشارے

لبادے پہن کر  ظلم و ستم کے

لبوں پر قتل کے فتوے سجاے

مری دھرتی کی جانب ہیں سدھارے

یہ قتل و بربریت کے پجاری

یہ ظلم و وحشیت کے استعارے

انہیں کہہ دو کہ وہ دن آگیا ہے

سرِبازارِ جاں اعلان کر دو

ٓانہیں کہہ دو کہ وہ دن آ گیا ہے

کہ اب ہم  شہرِجاں کی ہر گلی میں

ہر اک رستے پہ اور ہر اک مکاں پر

لیے ہاتھوں میں ہمت کی کمانیں

پہن کر پیرہن عشق و وفا کے

بنائیں گے صفیں اپنے بدن سے

صفیں ایسی کہ جو بن کر فصیلیں

ہر اک سیلاب کا رخ موڑ دیں گی

ہر اک قاتل کے کی گردن توڑ دیں گی

Masood Raja

Originally from Pakistan, Dr. Masood Ashraf Raja is an Associate Professor of Postcolonial Literature and Theory at the University of North Texas and the author of "The Religious Right and the Talibanization of America" (Palgrave, 2016). 

  1 comment for “سرِ بازارِ جاں اعلان کر دو

  1. arashid@numls.edu.pk'
    Adnan
    December 30, 2014 at 4:48 am

    Boht Aala.. really amazing sir.

Comments are closed.