غزل ۔ فیض احمد فیض

ھم كے ٹھرے اجنبی اتنی مداراتوں كے بعد

پھر بنیں گے آشنا كتنی ملاقاتوں كے بعد

كب نظر میں آے گی بیداغ سبزے كی بھار

خون كے دھبے دھلیں گے كتنی برساتوں كے بعد

دل تو چاھا پر شكستِ دل نے مھلت ھی نہ دی

كچھ گلے شكوے بھی كر لیتے مناجاتوں كے بعد

تھے بھت بیدرد لمحے ختمِ دردِ عشق كے

تھیں بھت بے مھر صبحیں مھرباں راتوں كے بعد

ان سے جو كہنے گیے تھے فیض جاں صدقہ كیے

ان كہی ھی رہ گیی وہ بات سب باتوں كے بعد

Sung by Nayyara Noor: